فنگل کارنیا انفیکشنز کراچی میں: خطرات اور علاج کے طریقے

فنگل کارنیا انفیکشن، جنہیں فنگل کیراٹائٹس بھی کہا جاتا ہے، آنکھ کا ایک سنگین مسئلہ ہے جو بروقت علاج نہ ملنے پر مستقل نظر کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ انفیکشن اس وقت ہوتا ہے جب فنگس کارنیا میں داخل ہو جاتا ہے — عام طور پر کسی چوٹ، آلودہ مواد کے رابطے، یا لینز کے غلط استعمال کے بعد۔ کراچی کے گرم اور نمی والے موسم میں فنگل کارنیا انفیکشن نسبتاً زیادہ پائے جاتے ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو باہر کام کرتے ہیں یا کانٹیکٹ لینز استعمال کرتے ہیں۔

فنگل کارنیا انفیکشن کیسے بنتا ہے؟

فنگل کیراٹائٹس عموماً دو طرح کے فنگس سے ہوتا ہے:
فائلیمنٹس فنگس — جو زیادہ تر پودوں یا مٹی سے لگنے والی چوٹ کے بعد ہوتا ہے۔
خمیر نما فنگس (Yeast) — جو اُن لوگوں کو متاثر کرتا ہے جنہیں پہلے سے کوئی آنکھ کا مسئلہ ہو۔

عام وجوہات اور خطرات میں شامل ہیں:

  • مٹی یا پودوں سے متعلق چوٹ
  • کانٹیکٹ لینز کا غلط استعمال
  • اسٹیرائڈ والے آئی ڈراپس کا لمبے عرصے تک استعمال
  • پہلے سے موجود کارنیا کی بیماریاں
  • آلودہ پانی یا ماحول سے رابطہ

کارنیا پر معمولی سی خراش بھی فنگس کے داخل ہونے کا راستہ بن سکتی ہے۔

وہ علامات جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

فنگل انفیکشن آہستہ شروع ہو کر تیزی سے بگڑ سکتا ہے۔ اہم علامات میں شامل ہیں:

  • شدید آنکھ کا درد
  • لالی اور جلن
  • دھندلا یا کمزور دکھائی دینا
  • روشنی سے تکلیف
  • گاڑھا مادہ یا پیپ
  • کارنیا پر سفید یا سرمئی دھبہ

ایسی کوئی بھی علامت فوری معائنے کی ضرورت رکھتی ہے۔

فنگل کیراٹائٹس کا علاج

فنگل انفیکشن کا علاج بیکٹیریل انفیکشن کے مقابلے میں زیادہ طویل اور محنت طلب ہوتا ہے۔ علاج کے آپشنز میں شامل ہیں:

1. اینٹی فنگل آئی ڈراپس
جیسے نیٹامائسن یا ووریکونازول، جو انفیکشن کو روکتے ہیں۔

2. زبانی یا انجیکشن والے اینٹی فنگل
اگر انفیکشن گہرا یا شدید ہو تو یہ لازمی ہوتے ہیں۔

3. ڈی بریڈمنٹ
کارنیا کی متاثرہ تہہ کو ہٹا کر دوا کو بہتر طریقے سے جذب ہونے میں مدد دی جاتی ہے۔

4. کارنیا ٹرانسپلانٹ (کیراتو پلاسٹی)
اگر انفیکشن بہت بڑھ جائے یا کارنیا کو نقصان پہنچے تو ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔

جلدی تشخیص نہایت ضروری ہے—دیر کرنے سے بینائی کھونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کراچی میں احتیاطی تدابیر

  • باہر کام کرتے وقت حفاظتی چشمہ پہنیں
  • کانٹیکٹ لینز کی صفائی سختی سے یقینی بنائیں
  • آنکھ کو چوٹ لگنے کے بعد رگڑنے سے پرہیز کریں
  • مٹی یا پودوں سے جڑی کسی بھی چوٹ کے بعد فوراً ماہرِ چشم سے رجوع کریں

Other Posts